نئی دہلی:06 /مارچ(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) این سی پی صدر اور سابق وزیر زراعت شرد پوار نے ملک میں زرعی تحقیق کی خستہ حالت پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے۔گذشتہ 12 فروری کو لکھی گئی اس خط میں پوار نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے تحت 103 ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آتے ہیں جن میں سے 63 ادارے گزشتہ دو چار سال سے بغیر کسی ریگولر ڈائریکٹر کے کام کر رہے ہیں۔زرعی شعبے میں 350 ریسرچ منیجر کے عہدے ہیں جن میں سے 55فیصد خالی پڑے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں گزشتہ چار سال سے کوئی ریگولر ڈائریکٹر مقرر نہیں کیا گیا ہے۔وزارت زراعت میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل رینک کے بھی کئی عہدے خالی پڑے ہیں، جیسے ڈی ڈی جی ۔پوار نے کہا ہے کہ زرعی تحقیق اداروں میں بھرتی کے لئے جو ایگریکلچرل ساٹسٹس ریکروٹمنٹ بورڈ سیٹ اپ کیا گیا اسے ختم کرنے کی وجہ سے یہ بحران کھڑا ہوا ہے۔پوار مانتے ہیں کہ یہ بحران ایسے وقت پر کھڑا ہوا ہے جب زرعی شعبے بہت بڑے چیلنجوں سے دوچار ہے۔زرعی شعبے میں پانی کی کمی ہے، لیبر کی کمی ہے، فصلوں کی بوائی کے لئے مناسب علاقے محدود ہیں، موسمیاتی تبدیلی کے زرعی شعبے پر اثر پڑ رہا ہے۔